9 مارچ 2021 - 18:00
جناب ابو طالب(ع)؛ حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار کے ادبی-ابلاغی میلے کی اختتامی تقریب کا انعقاد + جیتنے والوں کے نام

"ابو طالب(ع)؛ حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کا اطفال و نونہالان کے میلے کی اختتامی تقریب شہر قم کے کوثر آڈیٹیوریم میں منعقد ہوئی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق، "ابو طالب(ع)؛ حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کے ادبی-ابلاغی میلے کی اختتامی تقریب آج مورخہ 9 مارچ 2021ء، بوقت عصر، صوبہ قم کے تبلیغات اسلامی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کے کوثر آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔
یہ تقریب قم کے نامی گرامی شاعر "سید محمد جواد شرافت" کی شعرخوانی کے ساتھ منعقد ہوئی، اور مختلف شہروں کے شعراء اور قلم کاروں نے بھی منظوم اور منثور فن پارے پیش کئے، کچھ نے اپنی یادداشتیں پڑھ کر سنائیں اور "رایۃ الہُدیٰ" نامی گروپ نے ترانہ پیش کیا۔

* حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلے کی اختتامی تقریب میں 108 کاوشوں کی شمولیت
حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلے کے سیکریٹری حجۃ الاسلام والمسلمین "علی اسفندیار" اس تقریب کے آغاز پر، "ابو طالب(ع)؛ حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ سیمینار عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی طرف کا ایک مبارک اقدام ہے، تاکہ حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کو مظلومیت کے حصار سے نکالا جاسکے، اور اس سیمینار کا ایک حصہ حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلہ ہے۔ اس میلے میں حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے بارے میں ادبی کاوشوں کی تصنیف کے لئے عوامی مہم چلانے کی بھی کوشش کی گئی، ایک ایسی شخصیت جس کو آج تک عالم اسلام کی نظروں سے چھپایا جاتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلے کا اعلان کیا اور اس بارے میں لکھنے کی دعوت دی تو بہت سے شعراء و ادباء نے اس کا خیرمقدم کیا اور نوجوانوں سے لے کر عمر رسیدہ لوگوں تک نے حضرت ابو طالب(ع) کی شان میں اشعار کہے یا نثری فن پارے تحریر کیے یا یادداشتیں لکھیں۔ اس دعوت اور اعلان کے بعد ہمیں 180 کاوشیں موصول ہوئیں جن میں  33 فارسی شاعری کے فن پارے، عربی شاعری کے 4، ترکی شاعری کے 4، تامل شاعری کے کا ایک فن پارہ، 25 یادداشتیں، 19 غیر منظوم تصنیفات، 15 چھوٹے مکتوبات (Mini-mails) اور پانچ رپورٹیں شامل تھیں۔

حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلے کے سیکریٹری نے کہا: ابتداء میں انعامات کا کوئی انتظام نہیں تھا بلکہ تمام شرکاء کو حق التالیف دینے کا پروگرام تھا؛ اور یہ خیال پہلی مرتبہ اس میلے میں پیش ہؤا۔ لیکن آگے جاکر، میلے کو موصول ہونے والی کاوشوں کے پیش نظر، فیصلہ ہؤا کہ انہیں جیوری کے سامنے رکھا جائے اور برگزیدہ کاوشوں کو انعام دیا جائے۔ چنانچہ کاوشوں کو خالقوں کے نام اور کوائف کے بغیر جیوری کے سامنے رکھا گیا اور آخرکار جیوری نے 108 کاوشوں میں سے 15 کاوشوں کو منتخب اور برگزیدہ قرار دیا، جنہیں تصحیح کے بعد تحریری صورت میں شائع کیا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا: تحریر و تصنیف کا ایک پہلو دینی ہے اور مؤمنین کو قلم اٹھانا چاہئے، کورونا نے اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود، کچھ طبقوں کو تحریر و تصنیف کی طرف دھکیل دیا اور آج تالیف و تصنیف کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہوئی ہے۔

* حضرت ابو طالب(ع) کا بلاواسطہ اور بالواسطہ دفاع لازمی ہے
ادھر ادارہ تبلیغات اسلامی کے ثقافتی تبلیغی اداروں کی قومی اسمبلی تنظیم کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین "حمید رضا مہدوی ارفع" نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے نزدیک حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے مقام و منزلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "رسول اکرم(ص) نے حضرت ابو طالب (ع) کی وفات پر ارشاد فرمایا: انھوں نے طفولت میں میری تربیت اور بڑی عمر میں میری حمایت کی، خداوند متعال انہیں بہترین اجر و ثواب عنایت فرمائے"۔
انھوں نے کہا: ایمان ابو طالب (علیہ السلام) کے سلسلے میں بےشمار احادیث شریفہ منقول ہیں اور ایک حدیث کے مطابق روز قیامت - 14 معصومین (علیہم السلام) کے نور کے سوا باقی - تمام انوار حضرت ابو طالب(ع) کے نور کے مقابلے میں بجھ جائیں گے۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: "میرے والد کی شفاعت کے نتیجے میں، تمام گنہگار جنت میں داخل ہونگے"۔ یہ امام معصوم نے ہرزہ سراؤں میں سے ایک کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: "یہ کیونکر ممکن ہے کہ میرے والد دوزخ میں ہوں جبکہ ان کا فرزند قسیم النار والجنہ (دوزخ اور جنت کا تقسیم کرنے والا) ہے"۔

جناب مہدوی ارفع نے کہا: جو لوگ حضرت ابو طالب(ع) کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ان کا مقصد امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کی ذات بابرکات کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ہم امیرالمؤمنین(ع) کا تعارف کرائيں اور آپ کے فضائل بیان کریں۔ قرآن کی 300 آیتیں اس امام معصوم کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ وہ واحد شخصیت جو غار حرا میں رسول اللہ(ص) کے ساتھ تھی، امیرالمؤمنین(ع) کی شخصیت تھی۔ آپ وحی کے نور کو دیکھتے تھے اور غار حرا میں جبرائیل(ع) کی آواز کو سنتے تھے۔ اولین انسان - جو رسول اللہ(ص) پر ایمان لائے - امیرالمؤمنین علی(ع) تھے۔
انھوں نے مزید کہا: جو لوگ امیرالمؤمنین(ع) کے ساتھ بغض و کینہ رکھتے تھے، انھوں نے اس امام معصوم کو نقصان پہنچانے کے لئے، کہا کہ آپ کے والد ابو طالب(ع) توحید کے دائرے سے خارج تھے اور انجام بخیر نہيں ہوئے، حالانکہ امیرالمؤمنین(ع) "کُلِّ اسلام ہیں اور جو شخص آپ کے والد کی شان میں شاعری کرے، اس نے پورے اسلام کا دفاع کیا ہے۔ فنکاروں کے ذوق و ہنر کو حضرت ابو طالب(ع) جیسی شخصیات کے تعارف کے لئے بروئے کار لانا چاہئے؛ جو 14 صدیاں گذرنے کے باوجود انجانی ہیں۔
مہدوی ارفع نے کہا: حضرت ابو طالب(ع) اصحاب کہف کی طرح تھے جو خفیہ ایمان کے حامل تھے۔ اس شخص کا دفاع بلاواسطہ اور بالواسطہ روشوں سے ممکن ہے اور حضرت ابوطالب(ع) کے دفاع کے لئے بالواسطہ روش زیادہ مؤثر ہے اور ہمیں اس عظیم شخصیت کے وجود کے جوہر کو متعارف کرنا چاہئے؛ اہل قلم نہج البلاغہ کا مطالعہ کرکے اس میدان میں چمک سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا: امیرالمؤمنین کے تعارف کے لئے کمر ہمت باندھنے کی ضرورت ہے اور جو شخص اس راہ پر گامزن ہوجائے، خداوند عالم اس کو عزت و کرامت عطا کرتا ہے۔ سید رضی نے نہج البلاغہ کو مرتب کرنے کے وقت لکھا تھا کہ "میں جانتا ہوں کہ ایک دن یہ کتاب پوری دنیا کو تسخیر کرے گی"؛ اور آج سید رضی کی اس آرزو کے برآوردہ ہونے کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔

..............

110